انتخابی منشور 2018

Read the manifesto in English Read our Islamabad-specific manifesto

عوامی ورکرز پارٹی کا انتخابی منشور 2018

Hackathon

پاکستان اپنی ستر سالہ تاریخ میں مختلف بحرانوں اور تضادات کا شکار رہا ہے۔ یہ بحران و تضادات ایک طرف بنیادی جمہوری آزادیوں کے حوالے سے ابھرتے رہے ہیں تو دوسری طرف طبقاتی، قومی، صنفی ،مذہبی اور سامراجی تسلط کے نتائج بھی ہیں۔ یہ بحران اور گھمبیر مسائل آج جس شدت سے ابھرے ہوئے ہیں شاید ہی گزشتہ 7 دہائیوں میں کبھی اس طرح کبھی ہوا ہو۔ عام انتخابات وہ موقع ہے کہ عوام کے دیرنہ مسائل کو اجاگر کیا جائے اور ٹھوس اور قابل عمل متبادل سیاسی پروگرام منظر عام پر آئیں۔ مگر حکمران جماعتیں فرسودہ اور عوام دشمن نظام کو تبدیل کرنا ہی نہیں چاہتے۔ وہی پرانے چہرے ایک جماعت سے دوسری جماعت میں جاتے ہیں اور پیسہ، دھونس اور دھاندلی کے ذریعے کرسی حاصل کرنے کی نہ ختم ہونے والی گیم دہرائی جاتی ہے۔

عوامی ورکرزپارٹی وہ واحد جماعت ہے جو کہ انتخابات میں عوام کے حقیقی مسائل او رعوام دشمن نظام کی تبدیلی کی سیاست کو اجاگر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ آج پاکستان کے21کروڑ لوگوں میں سے 14۔ 15 کروڑ نوجوان ہیں جن کی ساری زندگی ان کے آگے پڑی ہے۔ ان کو تعلیم، صحت، روزگار اور اظہار رائے کی آزادی چاہیے مگر یہ سب کچھ صرف نعرہ بازی سے نہیں، ٹھوس اقدامات سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اور اس کے لیے ایک ایسی جماعت اور پروگرام کی ضرورت ہے جو کہ عوام کے حقِ حکمرانی کے اصول پر کوئی سودہ نہ کرے۔ہر با شعور پاکستانی جانتا ہے کہ اس ملک کی اصلی طاقت ’’اسٹیبلشمنٹ ‘‘ ہے جس کی انتخابات سے پہلے اور اس کے بعد بھی فیصلہ سازی پر گرفت مضبوط رہتی ہے۔نظام ہمارا جمہوری تو کہلاتا ہے مگر حکمران عوام کے سامنے جواب دہ نہیں۔

در اصل پاکستان میں انتخابات کے گرد ہونے والی سیاست بالکل الگ اور عوام دشمن نظام کیخلاف ابھرنے والی مزاحمتی سیاست بالکل الگ نظر آتی ہے۔ عوامی ورکرز پارٹی نہ پیسہ اور نہ اسٹیبلشمنٹ کے بل پر سیاست کرنا جانتی ہے۔ ہم انتخابات میں بے خوف ہو کر عوام دشمن نظام کے حقائق بے نقاب کریں گے اور ایک ٹھوس متبادل پیش کریں گے جس کوغریب محنت کش، محکوم اقوام، عورتیں، نوجوان اوراقلیتیں اپنا کر ایک نئے پرامن، مساوی اور ترقی پسند سماج کی بنیاد رکھیں۔

کیا ہم سب برابر شہری ہیں؟

کہا جاتا ہے کہ ’’اس پرچم کے سائے تلے ہم سب ایک ہیں‘‘ لیکن سچ یہ ہے کہ پاکستان کے سارے لوگ برابر نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کے قیام کے وقت ریاستی ڈھانچے اور قوانین وہی رہے جو کہ برطانوی سامراج نے برِصغیر میں قائم کیے۔ یعنی کہ پاکستان کے قیام کے وقت ریاستی ڈھانچہ اور قوانین مکمل طور پر نو آبادیاتی تھے اور اس کے بعد سے پاکستان کی تمام تر تاریخ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری ریاست کبھی عوام کے سامنے جواب دہ نہ رہی، اورجمہوریت ایک خواب ہی رہا جس کو قائم کرنے کے لیے بھی حقیقی حب ا لوطن قوتیں خون بہاتی رہیں۔ 1940ء کی قرارداد کی باتیں بہت ہوتی ہیں جس کے تحت تمام وفاقی اکائیوں کے آزاد و خود مختار ہونے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن ایک رضاکارانہ اور جمہوری بنیادوں پر استوار ہونے والاوفاقی نظام آج دن تک قائم نہ ہو سکا۔مشرقی پاکستان کی بنگالی اکثریت کو اتنا بدزن کیا گیا کہ ملک دو حصوں میں ٹوٹ گیا او ر اس کے بعد کبھی بلوچوں، کبھی سندھیوں، کبھی پشتونوں حتی کہ مظلوم ترین گروہوں جیسا کہ کوئٹہ کے ہزارہ قوم کو بھی اس حد تک دیوار کے ساتھ لگایا جاتا ہے کہ وہ پوچھنے پر مجبور ہیں کہ وہ برابر کے شہری ہیں بھی کہ نہیں؟

د ر اصل پاکستان اپنے قیام اور نام کے حوالے سے ہی مختلف جغرافیائی خطوں، تہذیبوں اور لسانی وحدتوں کا ملک ہے اور یہ جغرافیائی، تہذیبی ولسانی وحد تیں مختلف قومیتوں کی شکل میں پاکستان کے قیام سے پہلے موجود تھیں، اس لیئے پاکستان کو ایک کثیر الاقومی ملک تسلیم کیا جانا ضروری ہے جس میں مختلف و حدتیں داخلی طور پر مکمل خودمختار ہوں اور انہیں اپنے تمام معاشی اور قدرتی وسائل پراختیار ہو۔ تاکہ وہاں کے عوام معاشی، تہذہبی، لسانی اور سیاسی طور پر ترقی کر سکیں اور ایک قومیت کی دوسری پر بالادستی و برتری کا تصور ختم ہو جائے اور پاکستان ایک مضبوط وفاقی مملکت بن سکے۔

ستر سال سے ان تاریخی حقائق سے انکار کیا گیا اور مذہب کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے عوام کے حقِ حکمرانی اور بنیادی جمہوری حقوق کو مسلسل پامال کیا گیا۔ قرار دارِ مقاصد سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ وقت کے ساتھ زیادہ سنگین ہوتا چلا گیا ہے۔ جنرل ضیاء4 الحق نے قرار دادِ مقاصد کو آئین کا حصہ جب بنایا تو مذہب کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی اپنے منطقی انجام کی طرف گئی اور آج فتوے اور دہشت نے سماج کی بنیادیں کھوکلی کردی ہیں۔ اس ملک میں عقیدے کی بنیاد پر انسانوں کو قتل کیا جاتا ہے۔ ریاست بجائے اس کے کہ ہر شہر کی مذہبی آزادی کی ضمانت دے، خود مذہب کی بنیاد پر امتیاز کی علمبردار بن چکی ہے۔اسی طرح مذہب کو بدترین صنفی جبر کاجواز فراہم کیا جاتا ہے۔ویسے تو عورتوں اور بچیوں کو کبھی بھی برابر شہری تسلیم نہیں کیا گیا مگر گزشتہ دہائیوں سے پدر سری نظام کو جس طرح تقویت ملی ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ قوانین، رسوم و روایات، سیاست اور معیشت ہر سطح پر مرد کی بالادستی واضح نظر آتی ہے اور عورت دو نمبر شہری کے طور پر زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ محنت کش عورت کی داستان سب سے زیادہ خوفناک ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ مزدورطبقہ کے اندر عورتوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی ہے۔

“قومی سلامتی “ کا ڈھونگ

ایک لحاظ سے شہریت کا بنیادی مسئلہ سترسال بعد بھی اس لیے قائم ہے کہ فوجی اور سول حکام نے شروع دن سے ’’قومی سلامتی‘‘ کی آڑ میں جمہوریت اور وفاقیت کا گلا گھونٹا۔ پاکستان کے بنتے ہی اسلام اور ملک خطرے میں پڑگئے۔ ہمسائیہ ممالک کو دشمن بناکر پیش کیا گیا جبکہ مغربی سامراج کی بے شرمی سے خدمت کے لیے ملک کے وسائل اور سرز مین کی قیمت لگتی رہی۔ چنانچہ ایک ایسے سیاسی نظام اور کلچر کی بنیاد رکھی گئی جس میں ملکی وسائل عوام کی ضروریاتِ زندگی پرکم اور دفاع کے نام پرزیادہ خرچ ہوئے اور مجموعی طور پر ’’قومی سلامتی‘‘ کے نام پر جنگ جو ریاستی پالیسوں پر سوال اٹھانے والوں کو غدار قراردیا گیا۔ آج اسی ’’قومی سلامتی‘‘ کی پالیسوں کے نتیجہ میں سارا ملک اور خطہ جنگ و جدل کی لپیٹ میں ہے۔ 1980ء کی دہائی میں ریاستی سرپرستی میں بنائے جانے والے ’’مجاہدین‘‘ آج دہشت گرد بن گئے ہیں۔ اور پاکستان کے عوام پھر بھی کبھی بم دھماکوں اور کبھی فوجی آپریشنز کا شکار ہیں۔

گزشتہ کئی سالوں کے دوران پختون، بلوچ اور دیگر علاقے ایک ایسی جنگ کی لپیٹ میں آئے ہیں جس کا ہر فریق عوام ہی کو نشانہ بناتا ہے۔ لاکھوں معصوم لوگ مارے گئے ہیں، اس سے بھی زیادہ اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر در بدر ہیں جبکہ اغوا کاریوں اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ایک ایسی نہج تک پہنچ گیا ہے کہ ریاست ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ کرنے کے بنیادی فریضہ کو پورا کرنا سے انکاری نظر آتی ہے۔لیکن پھر بھی ہر طرف ’’قومی سلامتی‘‘ کے نعرے گونج رہے ہیں۔

دوسری جانب اسی ’’قومی سلامتی‘‘ کے نظریہ کا ہی نتیجہ ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ آج پاکستان کی معیشت پر حاوی ہو چکی ہے۔یہ سلسلہ تو نوآبادیاتی دور میں زرعی زمینوں کی ریٹائرڈ اور حاضر و سروس فوجی افسران کو الاٹمنٹ کی صورت میں شروع ہوا اور آج بڑی ہاؤسنگ سکیموں تک پہنچ چکا ہے۔ مختلف فاؤنڈیشنوں جن میں فوجی فاؤنڈیشن ، شاہین فاؤنڈیشن ، بحریہ فاؤنڈیشن نیشنل لاجسٹک سیل اور ان کے زیر اہتمام مختلف کمپنیوں کی صورت میں سرمایہ کاری شروع ہوئی اور ایک تحقیق کے مطابق آج 30 % فیصد سے زیادہ کا رپوریٹ سرمایہ فوجی اداروں کا ہے۔ جنہیں ٹیکس میں خصوصی چھوٹ اور سہولتیں حاصل ہیں ان کے اداروں میں کام کرنے والے مزدوروں کے حقوق نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس طرح معیشت میں اثر ہونے کی بنا پر فوج کے سیاست میں جڑیں اور زیادہ گہری ہو گئی ہیں اور ہماری دفاع کے علاوہ خارجہ پالیسی بھی فوج ہی کے ہاتھوں میں ہیں۔ لہٰذا سیاست کو فوج کے غلبے اور اثرات سے آزاد کرانے کی ضرورت ہے تاکہ سیاسی پارٹیوں اور پارلیمنٹ کی بالادستی قائم ہو اور ہماری دفاعی و خارجہ پالیسیاں پارلیمنٹ کے ذریعے تشکیل پاسکیں۔ پارلیمنٹ صرف اسی صورت میں آزاد و خود مختار ہو سکتی ہے جب اس میں درمیانے طبقے ، مزدوروں کسانوں محنت کار عوام اور خواتین کی بھرپور شرکت اور بالادستی ہو۔

غریب اور بے آواز ہونا پاکستان میں عذاب سے کم نہیں۔۔۔

پاکستان کے فرسودہ سیاسی و معاشی نظام کے بارے میں ہر تجزیہ نگار، سیاسی لیڈر اور ٹی وی اینکر چرچا ضرور کرتا ہے لیکن اس کا نقصان اٹھانے والے محنت کش عوام اور بالخصوص عورتیں بے آواز ہی رہتے ہیں۔ پاکستان کے طول و عرض میں ہر روز عام انسان تھانہ، کچہری، پٹوارخانہ اور دیگر ریاستی اداروں کے ہاتھوں مظالم سہتا ہے۔ قانون کی بالادستی کے نعرے لگتے ضرور ہیں مگر یہ روز کا معمول ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور اہلکار خود عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ طبقاتی سماج میں قانون بھی طبقاتی ہے۔اسی طرح تعلیمی نظام دو حصوں میں تقسیم ہے، ایک وہ جو کہ اشرافیہ کے بچوں کے لیے ہے جس میں انگریزی اور عالی سہولیات میسر ہیں اور ایک وہ جس میں غریب بچے ٹاٹ پر اردو میڈیم اور رٹہ خوری پر گزارا کرتے ہیں۔ اسی طرح کا فرق صحت کی سہولیات کے حوالے سے نظر آتا ہے : دولت اگر ہے تو بہترین صحت کی سہولیات تک رسائی آسان ہے مگر محنت کش اکثریت کے لیے عام ادویات بھی میسر نہیں۔ جہاں طبقاتی تضاد شدت اختیا ر کرتا جارہا ہے وہاں پدرسری نظام اپنی تمام تر خوف ناک اشکال میں غریب گھرانے کی عورت کو دہریجبر کا شکار بنا رکھا ہے۔

در اصل پاکستان شروع دن سے ان طبقات کا ہی ملک رہا ہے جس نے زمینیں، صنعتیں، معدنیات اور دیگر وسائل پر قبضے کو یقینی بنانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر ضرورت کے تحت کبھی سیاسی جماعتوں اور کبھی کھلے عام آمریتوں کے ادوار میں غریب اکثریت کا استحصال کیا ہے۔ یقیناًاس ساری لوٹ کھسوٹ کو ہم ہی اپنی محنت سے ممکن بناتے ہیں اور کہیں ایسا بھی ہوا ہے کہ نچلے طبقات میں سے لوگ حکمرانوں کی صفحوں میں شامل ہوئے ہیں مگر عوام مجموعی طور پر اپنی ہی محنت کے پھل سے محروم رہتے ہیں۔

برطانوی راج کے زمانے میں سماج کی جو طبقاتی ساخت تھی وہ آج بہت حد تک تبدیل ہو چکی ہے۔ تاہم پاکستان میں قبائلی اور جاگیری باقیات بڑے زمینداروں کا معاشی، سماجی اور سیاسی غلبہ کی شکل میں موجود ہے اور آج تک کسی بھی حکومت نے حقیقی معنوں میں زرعی اصلاحات نافذ نہیں کیے جس کی وجہ سے نہ صرف معاشی بلکہ بڑے زمیند اروں کے سماجی و سیاسی اثر و رسوخ کو بھی آج تک ختم نہیں کیا جا سکا۔ دیہاتوں میں طبقاتی اور دیگر اقسام کے جبر و استحصال کے ساتھ ساتھ شہروں میں صنعت کاروں کی منافع خوری بھی مزدور کی قیمت پر ہوتی رہی ہے۔ آج شہروں کی بے بہاؤ پھیلاؤ کے نتیجہ میں سابقہ دور کے زمیندار اور صنعت کار دونوں ایک نئے لینڈ مافیہ کی شکل میں سامنے آرہے ہیں جو کہ بے زمین کسانوں ، کھیت مزدوروں اور ہاریوں کے ساتھ گوٹھوں اور کچی آبادیوں میں رہنے والے رہڑی بانوں اور دہاڑی داروں کو بدترین جبر کانشانہ بنا رہا ہے۔

بیسوی صدی میں مضبوط مزدور تحریک کی جدو جہد سے حاصل ہونے والی صحت، تعلیم، روزگار اور دیگر سہولیات بھی بہ تدریج واپس لیے جارہے ہیں۔ در اصل پاکستان میں سامراجی مفادات کو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ اور بالادست طبقات کی جماعتوں نے تقویت دی ہے اور گزشتہ 25۔30برسوں میں’’آزاد منڈی‘‘ کی آڑ میں و رلڈ بینک ، آئی۔ ایم۔ایف ڈبلیو۔ ٹی۔ او اورکثیر الاقومی سرمائے کی بڑی بڑی کمپنیوں کو جس انداز میں ملکی وسائل کی بندر بانٹ اور محنت کشوں کا استحصال کے مواقع فراہم کئے گئے ہیں ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔بیرونی سرمایہ کاری کی اس یلغار کو ’’ترقی‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔مگر شاپنگ مالز، بڑی روڈز اور دیگر ایسے ’’ترقیاتی‘‘ منصوبوں کے نتیجہ میں امیر اور غریب میں ناہمواری بڑھتی چلی جارہی ہے جبکہ پانی، زمین، جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل آنے والی نسلوں کے لیے سوچے بغیر استعمال ہوتے جارہے ہیں۔ سامراج کی من مرضی کی معیشت کو ترتیب دینے کا مطلب یہ بھی ہے کہ آج دن تک خطہ کے دیگر ممالک جن میں بھارت ، ایران،افغانستان، سنٹرل ایشیائی ریاستوں کے ساتھ قریبی دوستانہ تعلقات قائم ہی نہیں ہوئے جس سے پاکستان اور دیگر ممالک کے محنت کش عوام کو ہی فائدہ پہنچے گا۔

عوامی ورکرز پارٹی کیا چاہتی ہے؟

عوامی ورکرز پارٹی کا ’’منتہائے مقصود ملکی اور عالمی سطح پر ایک ایسے سماج کا قیام ہے جس میں ہر شخص سے اس کے علم و ہنر کے مطابق کام لیا جائے اور اس کے کام کے مطابق معاوضہ دیا جائے یوں سوشلزم کے رستے انسان کا انسان کے ہاتھوں استحصال کا خاتمہ ممکن ہوگا‘‘۔ پارٹی کا یہ بنیادی اصول پاکستان کے آئین کے آرٹیکل تین کے عین مطابق ہے۔ جس پر ہمارے حکمران عمل کرنے کیلئے تیار نہیں بلکہ ان کی تمام معاشی و سیاسی پالیسیاں اس کے برعکس ہیں۔ چنانچہ یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم اپنے اس ہدف کو با آسانی یا بہت جلد پا سکیں گے۔ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ انتخابات کا نظام ایسا بنادیا گیا ہے جس میں ارب پتیوں کی ہی گنجائش ہے نہ کہ پاکستان کے محنت کش عوام کی۔ آخر کار تبدیلی اس عوام کی ہی ضرورت ہے ، ارب پتیوں اور ان کی سرپرستی کرنے والی اسٹیبلشمنٹ کی نہیں۔

بہر حال ہم الیکشن کو جمہوریت کا اہم ستون سمجھتے ہیں اور ہم آنے والے انتخابات میں انقلابی تبدیلی کے سیاسی پروگرام کو عوام کے سامنے لیجاکر اس طویل جدو جہد جس سے انسان کے ہاتھوں انسان کا استحصال ختم ہوگا، اس کو ایک قدم آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ سٹیٹس کو کی پارٹیاں اپنے اپنے انتخابی منشور و پروگراموں میں دعوی کرتی ہیں کہ وہ اقتدار میں آکر عوام کے مسائل حل کریں گے جو محض نعرے بازی ہے درحقیقت پاکستان کے اندر جو بنیادی تضادات موجود ہیں وہ سطحی اقدامات سے ختم نہیں کیے جا سکتے۔ عوامی ورکرز پارٹی سمجھتی ہے کہ مندرجہ ذیل بنیادی اصلاحات اور تبدیلیوں کے بغیر پاکستان کے عوام کی اس استحصالی نظام سے نجات نا ممکن ہے جس کو ہم عوام کی طاقت سے تبدیل کرنے کا عہد کرتے ہیں۔

۱۔ آئینی و قانونی اصلاحات:
  • پاکستان کے آئین میں بنیادی اصلاحات کی جائیں گی جن کے ذریعے ہر شہری کو بلا لحاظ مذہب، رنگ، نسل اور جنس کے برابر آئینی حقوق حاصل ہونگے اور مذہب کو ریاستی امور سے الگ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی آئین میں ان تمام ترامیم کو ختم کردیا جائے گا جو مختلف مارشل لاؤں کے دوران کی گئیں یا جن کے ذریعے شہریوں کے درمیان کسی قسم کی تفریق پیدا ہوتی ہو۔
  • ملک کے تمام قوانین سیکولر اصولوں کے تحت تشکیل پائیں گے اور ایسے تمام قوانین ختم کر دیے جائیں گے جن سے شہریوں کے درمیان طبقہ ، جنس، مذہب یہ قومی بنیاد پر امتیاز برتا ہو۔
۲۔ عوامی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے انتخابی اصلاحات:
  • آئین میں دیے گئے موجودہ طریق انتخابات کو تبدیل کرکے متناسب نمائندگی کا طریقہ انتخابات نافذ کیا جائے گا جس میں خواتین کی کم از کم 33% نمائندگی کے علاوہ مزدوروں ، کسانوں ، ہاریوں ، اقلیتوں اور دانشوروں کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اور سیاسی پارٹیوں کے براہِ راست انتخابات میں سیٹوں کے علاوہ کل حاصل کیے گئے حاصل کیے گئے ووٹوں کے تناسب سے نمائندگی دی جائے گی۔ تمام انتخابی قوانین ورکرز پارٹی کیس کے دیے گئے فیصلے کے مطابق بنائیں جائیں گے۔ (PLD۔2012۔SC)
۳۔ حقیقی آزادی اور امن پسندی پر مبنی خارجہ پالیسی
  • دنیا بھر میں امن اور جمہوریت کی حمایت کی جائیگی۔ ہمسایوں سمیت تمام ممالک سے برابری کے اصولوں کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات قائم کیے جائیں گے۔
  • خارجہ پالیسی سازی عام عوام کی بنیادی معاشی ضروریات اورملک کی معاشی خد مختاری کے تقاضات کو مد نظر رکھتے ہوئے کی جائے گی۔
  • امریکہ اور سامراجی ممالک کی معاشی ، سیاسی اور فوجی پالیسیوں کی عالمی سطح پر مخالفت کی جائیگی۔
  • قومی آزادی کی تحریکوں اور دنیا بھر میں عوام دوست انقلابات کی حمایت کی جائیگی۔
  • دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں نہ مداخلت کی جائیگی نہ ہی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت برداشت کی جائیگی۔
  • پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ پالیسی کے تحت دفاعی افواج پر غیر ضروری اخراجات کم کر کے بجٹ میں کمی کی جائیگی۔ تمام غیرپیداواری اخراجات میں کمی کی جائیگی تاکہ ترقیاتی کاموں پر زیادہ رقوم صرف کی جا سکیں۔ افسروں اور سپاہیوں کی تنخواہوں اور مراعات میں موجود فرق کو کم کیا جائیگا۔
۴۔ زرعی زمین کی عوام میں منصفانہ تقسیم
  • بڑی زمینداریوں قبائلی سرداری و جاگیرداری باقیات کا خاتمہ کیا جائیگا نیز ملٹری فارمز کے نام پر گھیری ہوئی تمام اراضیات اور فوجی و سیول نوکر شاہی کو دی گئی تمام زمینات کو عوامی تحویل میں پیداواری استعمال میں لایا جائے گا۔
  • غیر حاضر زمینداری کا خاتمہ کیا جائے گا۔ زرعی زمین کی حدِ ملکیت 25ایکڑ نہری اور پچاس ایکڑ بلوانی مقرر کی جائیگی اور اس طرح حاصل کی گئی تمام زمینیں بے زمین کسانوں، ہاریوں، مزارعین اور کھیت مزدوروں میں تقسیم کی جائیگی۔
  • ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو زرعی زمینوں کی الاٹمنٹ کے پٹہ پر حوالگی اور فروخت ختم کی جائیگی۔
  • زرعی زمین کی تقسیم میں عورتوں کو منصفانہ ملکیت دلانے کے لیے اقدامات لیے جایءں گے۔
  • جن بارانی علاقوں میں اشتمال اراضی نہیں ہوئی ہے وہاں سرکاری سطح پر لازمی اشتمال اراضی کی جائیگی۔
  • زرعی ادویات، مصنوعی کھاد اور بیج تیار کرنے والے کارخانوں کو ریگولیٹ کیا جائیگا اور ان کی قیمتوں میں خاطر ۔ خواہ کمی کی جائیگی جبکہ کاشتکاروں کی فسلوں کی کم از کم قیمتیں مختص کی جائیں گی۔
  • زراعت میں بجلی، ڈیزل کی سپلائی و فروخت میں سبسڈی دی جائیگی۔
  • کھیت و دیہی مزدوروں کو صنعتی مزدوروں کے مساوی حقوق و مراعات دیئے جائنگے اور اس کے لیے قانون سازی کی جائیگی۔
  • ملک کے جنوبی علاقوں اور خاص طور پر سندھ میں زرعی پانی کی فراہمی کو یقینی بنائی جائے گی اور دیلٹا ایریا میں ہونے والی ماحوالیات تباہی کے روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے۔
  • خیبر پختونخواہ میں فارسٹری ایکٹ کے ذریعے چھوٹے کاشتکاروں کی زمینیں ضبط کرنے کا سلسہ ختم کیا جائے گا۔
  • خیبر پختونخواہ میں لینڈ ٹننسی ایکٹ کو ختم کرکے مزارعین کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔
۵۔ عوام دوست ترقیاتی منصوبہ بندی
  • حکومت معیشت کی عمومی منصوبہ بندی اور نگرانی کی ذمہ داری لے گی۔
  • ’’آزاد‘‘ منڈی، نجکاری اور محنت پر پابندیوں پر مبنی سرمایہ دارانہ عالمگیریت کی مخالفت کی جائے گی۔
  • قومیائی گئی صنعتوں کو فعال بنایا جائے گا۔ پاکستانی مالیاتی اداروں اور بینکوں کی جانب سے سرمایہ داروں۔ جاگیرداروں اور سول و فوج افسر شاہی کو دیئے جانے والے قرضوں کی مکمل وصولی کی جائے گی اور آئندہ سیاسی ۔ بنیادوں پر ایسے قرضوں کی فراہمی پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔
  • بڑی صنعتوں، فوج اور دیگر سرکاری محکموں کی خود مختار صنعتوں کو پبلک تحویل میں لیا جائیگا۔
  • صنعتی ترقی کے لئے نجی سرمایہ کاری کی اجازت ہوگی خاص کر ملک کے پسماندہ علاقوں میں ترجیحی بنیادوں پر نئی ۔ صنعتیں قائم کی جائیں گی تاہم نجی صنعت کو اجارہ داری اور بے لگام منافع خوری کی اجازت نہیں ہوگی ۔
  • تمام صنعتوں میں مزدوروں کے جمہوری اختیار کی ضمانت دی جائے گی اور ان کے قانونی حقوق کی حفاطت کے لیے محکمہ لیبر کو مضبوط اور با اختیار کیا جائے گا۔
  • روزگار کے حصول میں مقامی آبادی کو حقِ اولیت حاصل ہوگا۔
  • صنعتی ترقی، معاشی آزادی اور خودمختاری کے لیے علاقائی و ترقی پزیر ممالک کے ساتھ تعاون اور اشتراک پر مبنی ۔ معاہدے کئے جائیں گے۔
  • ملٹی نیشنل سرمایہ کاروں کے منافع کی شرح کو مکمل اور عوامی مفاد میں طے کیا جائیگا۔
  • تمام ترقیاتی منصوبوں کی ثقافت اور ماحول کے ساتھ ہم آہنگی کی ضمانت دی جائے گی۔
  • خواتین کے کام پر پابندی جیسے کہ تمام جاگیردارانہ تعصبات دور کئے جائیں گے۔
  • پانی اور توانائی کے بحران ہنگامی طور پر حل کئے جائیں گے۔
۶۔ باعزت و مستحکم روزگار کی ضمانت
  • تمام مزدوروں کو باقائدہ کنٹریکٹ کی صورت میں پکی ملازمت کی ضمانت ہوگی۔
  • دیہی علاقوں میں سالانہ 150 دنوں کی روزگار گرنٹی سکیم کا انعقاد کیا جائے گا جس کے ذریعے ترقیاتی کام بھی تیز کیا جائے گا۔
  • معاشی ناہمواری کو ختم کرنے کے لیے تنخواہوں میں توازن قائم کیا جائے گا۔
  • محنت کشوں کی کم از کم اجرت 30,000/- روپے ماہوار ہو گی اور تنخواہوں کو مہنگائی کے تناسب سے بڑھایا جائے گا۔
  • جبری مشقت کے خاتمے کے لیے موجود قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا ۔
  • مزدور دوست قانون سازی کی جائے گی جس کے ذریعے سرکاری اہلکاروں کو لیبر کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ی دی جائے گی۔
  • کارخانوں اور صنعتوں میں ٹھیکیداری نظام ختم کیا جائے گا۔
  • ہر شعبے کے مزدورکو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے انجمن سازی اور ٹریڈ یونین بنانے کے حق کی حفاظت ہو گی۔
  • ہر شعبے کے مزدور کو فرصت ،آرام اور تفریح کا حق ہے، جس کے لیے ہفتہ وار چھٹیوں کے علاوہ کم از کم 40سالانہ چھٹیوں کی قانونی ضمانت ہوگی۔
  • تمام بیروزگاروں کے لیے بیروزگاری الاؤنس کا آغاز کیا جائے گا اور ساتھ میں ملازمت ڈھونڈنے میں مدد فراہم کی جائے گی۔
  • گھریلو کام کاج کرنے والی خواتین اور مرد مزدوروں کو باقائدہ رجسڑیشن اور کانٹریکٹ کے ساتھ ملازمت یقینی بنائی جائے گی جس کے ذریعے وہ کم از کم اجرتی تنخواہ ، سوشل سیکورٹی اور دیگر سہولیات حاصل کر سکیں۔
  • ریٹائیرمنٹ کے بعد ہر شہری کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے ریاستی منصوبہ بندی کی جائے گی اور پینشن کو یقینی بنایا جائے گا۔
۷۔ کثیر القومی ریاست اور حقیقی وفاقیت کا قیام:
  • وفاقی آکائیوں کی تہذیبی ،معاشی اور جغرافیائی ہم آہنگی اور تاریخی پس منظر کی بنیاد پر از سر نو تشکیل کی جائے گی۔
  • وفاقی آکائیوں کو سیاسی اور معاشی طور پر خود مختار کیا جائے گا اور ان کو اپنے قدرتی وسائل پر حق دیا جائے گا۔
  • سرکاری وسائل کی تقسیم میں پسماندگی اور تاریخی نا انصافیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔
  • نو آبادیاتی دور کے بھیانک قوانین کا خاتمہ کیا جائے گا اور فاٹا گلگت بلتستان اور جموں کشمیر کی عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے کا مکمل اختیار دیا جائے گا۔
  • تمام قوموں کا حق خد ارادیت آئینی طور پر تسلیم کیا جائے گا۔
۸۔ منصفانہ اور ترقی پسند بنیادوں پر ٹیکس سسٹم کا انعقاد:
  • ٹیکس کے نظام کو نئے سرے سے منصفانہ بنیادوں پر ترتیب دیا جائے گا۔
  • عوام کو بالواسطہ ٹیکسوں سے نجات دلائی جائے گی۔ آمدنی کی بنیاد پر ٹیکس کا اصول زراعت اور غیر ملکی سرمائے سمیت ہر شعبہ زندگی پر لاگو کیا جائے گا۔
  • سرمایہ داروں سے ٹیکس کی وصولی کے لیے ٹیکس کے اداروں کی تعمیر نو کی جائے گی اور ٹیکس وصول کرنے والے اہلکاروں کو با اختیار کیا جائے گا۔
  • سامراجی ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے پاکستان کے حکمرانوں خاص طور پر فوجی آمروں کو دیئے جانے والے ناجائز غیر ملکی قرضوں کے خاتمے کے لئے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قرضوں سے نجات کے اصولوں کے تحت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
  • SROs کے ذریعے مختلف صنعتوں کو ٹیکس معافی دینے میں کمی لائے جائے گی اور SRO جاری کرنے کا اختیار FBRسے لے کر پارلیمان کو دیا جائے گا۔
۹۔ ریاستی اداروں کو شفاف اور عوام کے ماتحت کرنا:
  • ہر سطح پر تمام ریاستی ادارے عوام کے جمہوری کنٹرول کے تابع کیے جائیں گے۔ سرکار کی تمام نشستوں کو افسر شاہی کے کنٹرول کے بجائے انتخابات کے ذریعے پر کیا جائے گا۔
  • تمام ریاستی امور بمعِ دستاویزات تک حق معلومات کے قوانین کو مضبوط کر کے عوام کی رسائی کو یقینی بنایا جائیگا۔
  • فوج، پولیس، مال اور انصاف کے محکموں کے تمام امور کو فعال، شفاف اور جوابدہ کیا جائے گا۔
  • بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے فیصلہ سازی، وسائل اور نگرانی کے اختیارات بلدیاتی سطح کو دے دیئے جائیں گے تاکہ عوام کو بااختیار کیا جاسکے۔
۱۰۔ رہائش کے حق کو حقیقت بنانا :

عوامی ورکرز پارٹی زرعی اصلاحات اور زمینوں کی تقسیم کے ساتھ شہروں اوردیہاتوں میں تمام محنت کش خاندانوں کو رہائش کے لئے بھی منصوبہ بندی کرے گی۔

  • رہائش کو آئینی حق کے طور پر تسلیم کر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر عوام رہائشی سکیموں کا انعقاد کیا جائے گا جس میں غریب بے گھر شہریوں کو رہائش کے لئے پلاٹ اور مکان تعمیر کرنے کے لئے غیر سودی قرضے فراہم کئے جائیں گے جس کے لیے بجٹ کا ۵ فیصد حصہ رہائش کے لیے مختص کیا جائے گا۔
  • تمام کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دیے جائیں گے اورتمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
  • شہروں میں زمین کے استعمال کی ریگولیشن کے لیے قانون سازی کی جائے گی جس کا مقصد شہروں میں زمینوں کو غیر پیداواری سرگرمیوں کوروکنا اور خاص طو ر پر زمینوں کو ’’رئیل اسٹیٹ ‘‘ کی شکل میں پر بے لگام سٹہ بازی کی روک تھام۔
  • تمام نئی ریائشی سکیموں میں کم از کم 25% جگہ کم آمدن والے شہریوں کے لیے مختص کی جائے گی۔
۱۱۔ حقیقی صنفی برابری کا قیام:
  • خواتین کو زندگی کے تمام شعبوں میں مساوی حیثیت اور اپنی پسند کے شعبوں میں کام کرنے کا حق حاصل ہو گا۔ برابر کام کے برابر معاوضے کے اصول پر سختی سے عمل کیا جائیگا۔
  • عوامی نمائندگی کے تمام منتخب اداروں میں خواتین کی کم از کم 33فیصد نمائندگی یقینی بنائی جائیگی اور اس نمائندگی کو آئینی تحفظ دیا جائیگا۔
  • جنس کی بنیاد پر تمام امتیازات کو ختم کیا جائیگا اور تمام امتیازی قوانین ختم کر دیئے جائیں گے۔
  • خواتین کے برابر حقوق، تحفظ اور سماجی ترقی میں برابر حصہ داری کے حوالے سے جتنے قوانین تشکیل پائے ہیں ان کی تعمیل کے لیے منصوبہ بندی کی جائے گی اور ان پر سختی سے عمل کیا جائیگا۔
  • عورتوں کے خلاف پدرشہانہ، پرتشدد اور رجعتی رویوں کے خلاف عوامی مہمات کا آغاز کیا جائے گا۔
  • زچگی کے دوران خواتین کو چھ ماہ کی لازمی رخصت معاوضہ سمیت دی جائیگی۔
  • روز مرہ زندگی میں عورتوں کو ہراساں اور تشدد کرنے کے خلاف قانونی اقدامات اور سماجی آگاہی کے لیے اقدامات لیے جائیں گے۔
  • بچوں کی پیدائش بارے صوابدیدی حق عورت کو حاصل ہو گا۔
  • وراثت میں عورتوں کو مساوی حصے کی ضمانت دی جائے گی۔
۱۲۔ سیاسی اور سماجی آزادیوں اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ:
  • حق اظہار رائے کی حفاظت کے لیے خصوصی قانون سازی کی جائے گی۔
  • جمہوری احتجاج کے حق کا آئینی تحفظ مضبوط کیا جائے گا اور انگریز دور کے عوام دشمن قوانین کا خاتمہ کیا جائے گا۔
  • اس اصول پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے کہ مذہبی اقلیتوں کے عوام اس ملک کے برابر کے شہر ی ہیں اور انہیں سیاسی، معاشی، سماجی ترقی میں برابر کا حق حاصل ہے لہٰذا ملک میں ایسے تمام امتیازی قوانین کاخاتمہ کیا جائے گا جن سے شہریوں کے درمیان تفریق ہوتی ہو۔
  • جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے خصوصی قانون سازی کی جائے گی۔
  • مظلوم سماجی گروہوں کو ہراساں کرنے کے خلاف قانون سازی اور اس پر عمل درامد کی جائے گی۔
۱۳۔ غیر طبقاتی تعلیمی نظام اور تنقیدی اور تعمیری سوچ کا فروغ:
  • تعلیم پر GDPکا کم از کم 10فیصد خرچ کیا جائے گا۔
  • ہر شہری کو گریجویشن تک مفت تعلیم اور بعد ازاں روزگار دینے کی آئینی ضمانت دی جائے گی۔
  • موجودہ طبقاتی نظامِ تعلیم کا خاتمہ اور تعلیم کے نام پر تجارت، تعصب اور لوٹ مار کے کاروبار کو لگام دے کر معیاری اور یکساں تعلیم کا انتظام کیا جائے گا۔
  • نصاب کی سائنسی تقاضوں سے ہم آہنگ تشکیل نو کی جائے گی اور نساب سے قوموں، مذہبوں اور طبقات کے خلاف نفرت اور متعصب مواد نکالا جائے گا۔
  • پاکستان میں سیکنڈری تعلیم کی فراہمی اور تمام سکول سے باہر بچوں کو داخل کرنے کیلیے خصوصی منصوبہ بندی کی جائے گی۔
  • مادری زبانوں میں تعلیم کو فروغ دیا جائے گا۔
  • تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین بحال کیے جائیں گے اور فیصلہ سازی میں طلبہ کی شمولیت کی ضمانت دی جائے گی۔
  • تعلیمی نظام میں سوال کرنے اور اظہار رائے کو فروغ دیا جائے گا۔
  • نوجوانوں اور طالب علموں کو تعلیم کے ساتھ کھیل کود اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ طلباء کو غیر نصابی صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
  • محکمہ تعلیم کے افسران کو تمام بچوں کے تعلیم کے حق کو یقینی بنانے کے لیے قانونی طور پر پابند کیا جائے گا۔
۱۴۔ مفت اور معیاری علاج کا نظام:
  • صحت کو آئینی حق کے طور پر تسلیم کیا جائے گا اور صحت پر GDP کا 10 فیصد خرچ کیا جائے گا۔
  • عوام کو علاج معالجہ کی مفت اور ارزاں سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
  • ڈاکٹروں، نرسوں ، پیرامیڈکس، اور دیگر صحت کے شعبے سے منسلک مزدوروں کے لیے مستقل روزگار اور بہتر حالات کار کو یقینی بنایا جائے گا۔
  • دوائیوں کی کمپنیوں کی لوٹ مار اور جعلی ادویات کے عوام دشمن کاروبار پر پابندی لگائی جائے گی۔
  • خود مختار اور نجی ہسپتالوں وکلینکوں کی فیس اور اخراجات کوریگولیٹ کیا جائے گا۔
۱۵۔ اپنے بچوں اور اگلی نسلوں کے لیے ماحول کی حفاظت:
  • پانی کے بحران کوحل کرنے کے لیے پانی کی حفاظت اور منصفانہ تقسیم کے حوالے سے دور رس منصوبہ بندی کی جائے گی اور وسائل مختص کیے جائیں گے۔ پینے کے پانی کی ہر شہری کو فراہمی کو ترجیح دی جائے گی۔
  • کوئلہ پر مشتمل پاور پلانٹس اور فیکٹریوں کو فوری کنٹرول کرنے کے اقدامات لیے جائیں گے۔
  • معدنیات کی بندر بانٹ اور خاص طور پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اس حوالے سے سرگرمیوں پر سختی سے ریگولیشن، اور مجموعی طور پر آنے والی نسلوں کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے معدنیات کے استعمال
  • قابل تجدید توانائی پرفوری سبسڈی دی جائے گی اور بجٹ کا بڑا حصہ مختص کیا جائے گا۔
  • ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے پلاسٹک شاپر کے متبادل کا استعمال عام کیا جائے گا۔
  • ماحول کی حفاظت کے لیے صنعتوں پر لاگو قوائد کو مزید سخت کیا جائے گا اور ان کا بلا تفریق نفاز کیا جائے گا۔
  • پاکستان میں شہر کاری کے عمل کی عوام کی ضروریات اور رائے کے مطابق منصوبہ بندی کی جائے گی۔
  • ماحول کی حفاظت کے ہوالے سے بڑے پیمانے پر سماجی آگاہی مہم چلائی جائے گی۔